گارڈین کی رپورٹ کے مطابق برطانیہ کے نیشنل سائبر سکیورٹی سینٹر کا اندازہ ہے کہ 2028 سے پہلے اہم قومی بنیادی ڈھانچے پر رینسم ویئر حملے میں اے آئی سے چلنے والا میل ویئر استعمال ہونے کا قوی امکان ہے۔

گارڈین کی رپورٹ کے مطابق، انٹیلی جنس ایجنسی GCHQ کا حصہ نیشنل سائبر سکیورٹی سینٹر (NCSC) سمجھتا ہے کہ اب سے 2028 کے درمیان برطانیہ کے اہم قومی بنیادی ڈھانچے پر رینسم ویئر حملے میں اے آئی سے چلنے والا میل ویئر استعمال ہونا "بہت زیادہ امکان" ہے۔ برطانیہ کی تعریف میں اہم بنیادی ڈھانچہ توانائی، ٹرانسپورٹ، دفاع، خوراک، صحت اور مالیات پر مشتمل ہے، اور رپورٹ بجلی گھروں، ہوائی اڈوں اور ہسپتالوں کو ممکنہ اہداف کی مثال کے طور پر بتاتی ہے۔ یہ جائزہ یکم ستمبر 2025 سے 31 اگست 2026 تک کی مدت کا احاطہ کرتا ہے اور خطرے کی پیش گوئی ہے، کسی ہو چکے حملے کا ریکارڈ نہیں۔

گارڈین کے مطابق NCSC توقع رکھتا ہے کہ اے آئی حملہ آوروں کو اہداف کی چھان بین، آئی ٹی نیٹ ورکس کی کمزوریاں تلاش کرنے اور نقصان دہ کوڈ لکھنے میں مدد دے گا، جس سے رینسم ویئر زیادہ مؤثر ہو جائے گا۔ جائزے میں یہ تنبیہ بھی ہے کہ روس اور چین سائبر حملوں میں اے آئی کو "معمول کے طور پر" استعمال کرنا شروع کر دیں گے۔ جائزے کے ساتھ ہونے والی تقریر میں NCSC کے چیف ایگزیکٹو رچرڈ ہورن کے یہ کہنے کی توقع ہے کہ برطانیہ کو سائبر واقعات کی تعداد میں "بے مثال اضافے کے حقیقی امکان" کا سامنا ہے، کیونکہ اے آئی ان کمزوریوں کو بے نقاب کر سکتا ہے جنہیں "بہت طویل عرصے تک برداشت کیا گیا"۔ مثال کے طور پر گارڈین بتاتا ہے کہ گزشتہ ماہ اے آئی نے PHP میں ایک سنگین خامی تلاش کرنے میں مدد دی، جو تقریباً 70 فیصد ویب سائٹس پر استعمال ہوتی ہے۔

ہورن سے یہ بھی توقع ہے کہ وہ یورپ میں سپر مارکیٹوں کے فریجوں اور فریزروں پر حالیہ سائبر حملوں کا ذکر کریں گے، جن میں درجۂ حرارت 50 ڈگری سیلسیس سے اوپر چلا گیا، اور اسے اداروں کے لیے سائبر لچک میں سرمایہ کاری کی تنبیہ قرار دیں گے۔ یونیورسٹی آف سرے میں سائبر سکیورٹی کے پروفیسر ایلن ووڈورڈ نے گارڈین کو بتایا کہ اے آئی مدافعین کو خامیاں تلاش کرنے اور ٹھیک کرنے میں مدد دے سکتا ہے، مگر حکومتوں اور کمپنیوں کو جدید ترین ماڈلز تک رسائی چاہیے تاکہ حملہ آور پہلے نہ پہنچ جائیں۔ مندرجہ بالا تفصیلات گارڈین کے بیان پر مبنی ہیں؛ جائزے کے مکمل الفاظ کے لیے NCSC کی اپنی اشاعت دیکھی جائے۔