یوکرینی حکام کے مطابق کومیشووکھا میں انسانی امداد تقسیم کرنے والے اسکول پر گلائیڈ بموں کے بار بار حملوں میں پیر کو کم از کم 26 افراد ہلاک ہوئے؛ روس نے عوامی سطح پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

بی بی سی اور ڈی ڈبلیو کے حوالے سے یوکرینی حکام کے مطابق پیر کے روز جنوبی یوکرین کے علاقے زاپوریزیا کے گاؤں کومیشووکھا میں روسی طیاروں کی بمباری سے کم از کم 26 افراد ہلاک ہو گئے۔ یہ حملہ ایک ایسے اسکول پر ہوا جو انسانی امداد کی تقسیم کے مرکز کے طور پر استعمال ہو رہا تھا۔ علاقائی سربراہ میخائیلو سیمکن نے بتایا کہ گاؤں پر کم از کم نو فضائی بم گرے، جن میں سے ہر ایک کا وزن 3,000 کلوگرام تھا۔ یہ گاؤں زاپوریزیا شہر سے تقریباً 35 کلومیٹر مشرق میں اور محاذِ جنگ سے لگ بھگ بارہ کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ پانچ افراد زخمی ہوئے اور 27 کو ابتدا میں لاپتہ بتایا گیا تھا۔ ان رپورٹس کے وقت تک روسی فوج نے عوامی سطح پر کوئی تبصرہ نہیں کیا تھا۔

صدر وولودیمیر زیلنسکی نے حملے کو "انتہائی ہولناک" قرار دیا اور کہا کہ اسکول پر پہلے حملے کے بعد اس جگہ پر دوسرا حملہ کیا گیا جہاں لوگ پناہ لیے ہوئے تھے۔ یوکرین کی ریاستی ہنگامی سروس نے بتایا کہ اس وقت تک تصدیق شدہ ہلاک شدگان میں دو امدادی کارکن اور چار پولیس اہلکار شامل تھے، اور دن گزرنے کے ساتھ ہلاکتوں کی تعداد ابتدائی 18 سے بڑھ گئی۔ زیلنسکی نے کہا کہ روس کو معلوم ہوگا کہ وہاں کے رہائشیوں کو ہر ہفتے اسی جگہ امداد ملتی تھی۔ ملبے میں تلاش کرنے والی ریسکیو ٹیموں کو علاقے میں روسی ڈرون حملوں کی وجہ سے کئی بار کام روکنا پڑا، اور منگل کے لیے پورے زاپوریزیا خطے میں یومِ سوگ کا اعلان کیا گیا ہے۔

یہ حملہ پڑوسی علاقے خیرسون میں اولیشکی کے اردگرد چھ روزہ مقامی جنگ بندی ختم ہونے کے ایک دن سے بھی کم وقت بعد ہوا، جس کے دوران مبینہ طور پر تقریباً 800 شہریوں کو نکالا گیا تھا۔ زیلنسکی نے کہا کہ اس لمحے سے لگا تھا کہ امن ممکن ہو سکتا ہے، اور انہوں نے اس حملے کو اس بات کی علامت قرار دیا کہ روس کشیدگی کم نہیں کرنا چاہتا۔ فروری میں معطل ہونے والے امن مذاکرات یوکرین، روس اور امریکہ کی ٹیموں کے درمیان چند دنوں میں، غالباً ابوظہبی میں، دوبارہ شروع ہونے والے ہیں، تاہم بی بی سی کے مطابق کسی بڑی پیش رفت کی توقع نہیں ہے۔ ہلاکتوں کے اعداد و شمار یوکرینی حکام کی جانب سے ہیں اور تلاش جاری رہنے کے ساتھ تبدیل ہو سکتے ہیں۔