Science Advances میں شائع 50 افراد کی ایک چھوٹی تحقیق میں بیٹا بینڈ دماغی سرگرمی کی کمزوری اور سستی کا تعلق وقت کے کمزور ادراک، زیادہ بے ترتیب گفتگو اور زیادہ شدید علامات سے پایا گیا۔ محققین زور دیتے ہیں کہ نتائج ابتدائی ہیں۔
میک گل یونیورسٹی کی قیادت میں محققین نے بتایا ہے کہ ایک کمزور دماغی سگنل شیزوفرینیا کی ان علامات کو جوڑنے میں مدد دے سکتا ہے جنہیں عموماً الگ الگ پرکھا جاتا ہے۔ Science Advances میں شائع اس تحقیق میں میک گل، میک کونیل برین امیجنگ سینٹر، مونٹریال یونیورسٹی اور متعلقہ تحقیقی مراکز کے سائنس دان شامل تھے۔ اس میں بیٹا بینڈ سرگرمی، یعنی وہ تال والے برقی نمونے جو معلومات کی پروسیسنگ، ادراک اور حرکت کو ہم آہنگ کرنے میں مدد دیتے ہیں، شیزوفرینیا کی تشخیص والے 25 افراد اور 25 صحت مند شرکاء میں جانچی گئی۔ اس کے لیے مونٹریال کے دی نیورو میں اعلیٰ ریزولوشن میگنیٹو اینسیفیلوگرافی (MEG) استعمال ہوئی۔
شرکاء نے بصری اور سمعی معلومات کے وقت کا اندازہ لگایا، اور بے ترتیب سوچ کی علامات کے لیے ان کی گفتگو کا تجزیہ کیا گیا۔ شیزوفرینیا کے مریضوں میں کنٹرول گروپ کے مقابلے میں بیٹا بینڈ سرگرمی کمزور اور سست تھی۔ جن میں یہ بے قاعدگی سب سے زیادہ نمایاں تھی، ان میں دیکھی اور سنی ہوئی چیزوں کے وقت کا اندازہ لگانے میں زیادہ دشواری، زیادہ بے ترتیب گفتگو اور زیادہ شدید طبی علامات کا رجحان تھا۔ سینئر مصنفہ ڈاکٹر لینا پالانیاپن نے کہا کہ یہ کام ابتدائی شواہد دیتا ہے کہ دماغ اپنے دنیا کے ماڈل کو کیسے بناتا اور بدلتا ہے، اس کی پیمائش علامات کے الجھا دینے والے مجموعے کے پیچھے ایک مشترکہ دھاگا ظاہر کر سکتی ہے۔
مصنفین محتاط ہیں۔ تحقیق میں صرف 50 شرکاء تھے، اور مرکزی مصنفہ ہسی (تیانا) وے نے اسے پہلی، معمولی حجم کی تحقیق قرار دیا جس کے گفتگو اور طبی شدت سے تعلق کو بڑے اور آزاد نمونوں میں آزمانا ہوگا۔ اگر تصدیق ہو جائے تو بیٹا بینڈ کی پیمائش کسی دن ذہنی صحت کی مدد مانگنے والے ان نوجوانوں کی نشاندہی میں مدد دے سکتی ہے جنہیں سائیکوسس سے بچاؤ کے لیے اضافی سہارا درکار ہے، اور اس سگنل کو مستقبل کے علاج کے ہدف کے طور پر بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ فی الحال یہ تحقیقی نتیجہ ہے، تشخیصی ٹیسٹ نہیں۔ یہ رپورٹ ScienceDaily کی نقل کردہ یونیورسٹی کی پریس ریلیز پر مبنی ہے؛ اصل مقالے کا یہاں آزادانہ جائزہ نہیں لیا گیا۔



