جانے پہچانے ہائی اسٹریٹ برانڈ مشہور شخصیات کے اشتراک، کیٹ واک شوز، اے آئی اسٹائلسٹس اور موافق رینج سے خریداروں کو راغب کر رہے ہیں، اگرچہ ایک فیشن مبصر کو شبہ ہے کہ لگژری سے معیار کا فرق ختم ہوا ہے۔

دی گارڈین کی ایک رپورٹ کے مطابق 2000 کی دہائی میں پھلنے پھولنے والے اور پھر پائیداری کا خیال رکھنے والے خریداروں اور انتہائی سستے آن لائن لیبلز کے سامنے پیچھے رہ جانے والے ہائی اسٹریٹ فیشن برانڈ لگژری سے مستعار لے کر واپسی کر رہے ہیں۔ گیپ نے وکٹوریہ بیکھم کے ساتھ نیا کلیکشن پیش کیا ہے۔ مارکس اینڈ اسپینسر نے لندن فیشن ویک میں کیٹ واک کلیکشن دکھایا اور اسے فوراً خریداری کے لیے دستیاب کر دیا، جس کے آدھے ملبوسات 50 پاؤنڈ سے کم کے ہیں۔ ٹاپ شاپ کو گزشتہ سال دوبارہ لانچ کیا گیا اور اب جان لیوس کے 30 اسٹورز کے ساتھ لبرٹی میں بھی اس کے کاؤنٹر ہیں۔ ایم اینڈ ایس کی ڈیزائن سربراہ لیزا ایلس کہتی ہیں کہ شو کا مقصد لندن فیشن ویک کی رونق کو سب کے لیے قابل رسائی بنانا تھا، اور 35 سال سے کم عمر خریداروں کی تعداد سال بہ سال 16 فیصد بڑھی ہے۔

آن لائن، آسوس نے ہالی ووڈ اسٹائلسٹ لا روچ کو اسٹائلسٹ ان ریزیڈنس مقرر کیا ہے اور اے آئی اسٹائلسٹس، ورچوئل ٹرائی آن ٹولز اور "بائے دی لک" کا آپشن شامل کیا ہے۔ آسوس کی عہدیدار وینیسا اسپینس کے مطابق ان کی تحقیق میں 68 فیصد صارفین جاننا چاہتے ہیں کہ کوئی چیز کیسے پہنی جائے۔ کمپنی ٹلٹنگ دی لینس کنسلٹنسی کے ساتھ تیار کردہ موافق رینج بھی فروخت کرتی ہے، جس میں کوئی چیز 65 پاؤنڈ سے مہنگی نہیں۔ کووڈ کے بعد آسوس کی فروخت میں تیز کمی آئی اور اسے شین جیسے انتہائی سستے برانڈز کا مقابلہ کرنا پڑا؛ گزشتہ اگست فروخت 12 فیصد گھٹی، واپسی پر فیس سمیت لاگت میں کمی کی مہم نے حالات سنبھالنے میں مدد دی اور مارچ میں اس نے منافع میں 50 فیصد اضافے کا اعلان کیا، تاہم اکتوبر کے آغاز میں ہونے والے سائبر حملے کا اثر ابھی واضح نہیں۔ ریٹیل کنسلٹنٹ ایلا بینز کہتی ہیں کہ برانڈ لگژری کے ثقافتی اشارے مستعار لے رہے ہیں اور ساتھ ہی خریداروں کی قیمت کی حقیقت کا بھی خیال رکھ رہے ہیں۔

ہر کوئی قائل نہیں۔ فیشن مبصر اینڈریا چیونگ کہتی ہیں کہ برانڈ اب اپنی ماحولیاتی ساکھ کو پہلے جتنا نمایاں نہیں کرتے اور ہائی اسٹریٹ رینجز میں اکثر لگژری گھرانوں کے کپڑوں کی بجائے انسان کے بنائے ریشے استعمال ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق 25 سے 35 سال کے بہت سے خریدار مایوس ہیں اور سیکنڈ ہینڈ خریدتے ہیں، اور ری سیل ایپ وِنٹڈ اب برطانیہ کا تیسرا بڑا ریٹیلر ہے۔ ایم اینڈ ایس کا کہنا ہے کہ قدر اور پائیداری باہم مسابقتی ترجیحات نہیں اور وہ دیرپا ڈیزائن کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ یہ بیان دی گارڈین کی ایک ہی رپورٹ پر مبنی ہے، اس لیے فروخت اور صارفین کے اعداد و شمار کمپنیوں اور مبصرین کے اپنے دعوے ہیں، آزادانہ طور پر تصدیق شدہ ڈیٹا نہیں۔