برکلے، آکسفورڈ اور شراکت دار اداروں کے محققین نے نیچر میں بتایا کہ نائیوبیم-ٹائٹینیم کی دو مرکب دھاتوں نے 20 کیلون پر نینو پیمانے کی ٹوِننگ کے ذریعے دراڑ کا مقابلہ کیا، جو انتہائی سرد ماحول کے مواد کے لیے رہنمائی دے سکتا ہے۔
یونیورسٹی آف کیلیفورنیا برکلے، لارنس برکلے نیشنل لیبارٹری اور آکسفورڈ یونیورسٹی کے محققین نے بتایا ہے کہ دو تجرباتی دھاتی مرکبات 20 کیلون، یعنی -253 ڈگری سیلسیس (-424 فارن ہائیٹ) پر بھی نمایاں طور پر نقصان برداشت کرتے رہے، جس درجۂ حرارت پر اسی طرح کی دھاتیں عموماً بھربھری ہو جاتی ہیں۔ 14 اکتوبر کو نیچر میں شائع ہونے والی یہ تحقیق باڈی سینٹرڈ کیوبک دھاتوں سے متعلق ہے، جن میں لوہا، ٹنگسٹن اور کروم شامل ہیں اور جو شدید سردی میں لچکدار سے بھربھرے رویے میں بدلنے کے لیے معروف ہیں۔ ٹیم کے مطابق نائیوبیم اور ٹائٹینیم سے بنے دونوں مرکبات میں سے کسی نے بھی آزمائے گئے کم ترین درجۂ حرارت پر بھربھرے رویے کی طرف قابلِ پیمائش تبدیلی نہیں دکھائی۔
محققین کے مطابق وضاحت دباؤ سے نمٹنے کے ایک مختلف طریقے میں ہے۔ عام طور پر یہ دھاتیں ڈسلوکیشن نامی کرسٹل نقائص کی حرکت سے شکل بدلتی ہیں، مگر درجۂ حرارت گرنے پر انہیں ہلانا مشکل ہو جاتا ہے، اس لیے ایک چھوٹی دراڑ پھیل کر ٹوٹ پھوٹ کا سبب بن سکتی ہے۔ نئے مرکبات میں ٹیم نے نینو پیمانے کی ٹوِننگ دیکھی، جس میں کرسٹل کے چھوٹے حصے آئینے کے عکس جیسے نمونوں میں ازسرِنو ترتیب پاتے ہیں اور ساتھ کرسٹل ساخت میں مقامی تبدیلی ہوتی ہے۔ جب یہ حصے ہمسایہ کرسٹلوں کی سرحدوں تک پہنچتے ہیں تو دباؤ کو مرتکز کرتے اور نئی ڈسلوکیشنز پیدا کرتے ہیں، یوں دھات کو ٹوٹنے کے بجائے شکل بدلنے کے نئے راستے مل جاتے ہیں۔ تجربات میں نمونوں کو کھینچتے وقت ہیلیم سے ٹھنڈا کیا گیا اور آکسفورڈ شائر میں ISIS نیوٹران اور میون سورس پر نیوٹران شعاع استعمال کی گئی، پھر الیکٹران مائیکروسکوپی، ایٹم پروب تجزیہ اور کمپیوٹر ماڈلنگ کی گئی۔
مصنفین کا کہنا ہے کہ یہ نتیجہ ان دھاتوں کی بھربھراہٹ کو سمجھنے کا انداز بدلتا ہے: سطحوں پر نئی ڈسلوکیشنز بنانے کی صلاحیت اتنی ہی اہم ہو سکتی ہے جتنی موجودہ ڈسلوکیشنز کی آسان حرکت۔ ان کے مطابق یہ انتہائی سرد حالات کے لیے ساختی دھاتیں ڈیزائن کرنے کا راستہ دکھاتا ہے، جس کی توانائی کے نظاموں، ٹرانسپورٹ اور ایرو اسپیس میں ممکنہ اہمیت ہے۔ نتائج دو تجرباتی مرکبات پر لیبارٹری ٹیسٹوں سے آئے ہیں، اور یہ رپورٹ مقالے کے آزادانہ مطالعے کے بجائے سائنس ڈیلی کے ذریعے جاری یونیورسٹی پریس ریلیز پر مبنی ہے، اس لیے ابھی واضح نہیں کہ اس طریقے کو تجارتی مواد میں کتنی آسانی سے منتقل کیا جا سکے گا۔



