ناسا کے مطابق وائجر ٹیم نے ستمبر میں وائجر 1 کی کم ہوتی بجلی کی سپلائی بڑھانے کی مہینوں طویل کوشش مکمل کی، اور 20 اکتوبر کو اچانک ٹوٹنے والا رابطہ 48 گھنٹے بعد خود بخود بحال ہو گیا۔
ناسا کی وائجر ٹیم نے وائجر 1 کے بارے میں دو حالیہ پیش رفتیں بتائی ہیں، جو انسانیت کا سب سے دور خلائی جہاز ہے۔ ستمبر میں انجینئروں نے جہاز کی کم ہوتی بجلی کی سپلائی بڑھانے کی مہینوں طویل کوشش کامیابی سے مکمل کی۔ پھر 20 اکتوبر کو جہاز سے رابطہ اچانک ٹوٹ گیا؛ یہ خاموشی 48 گھنٹے بعد خود بخود ختم ہو گئی، اس سے پہلے کہ ٹیم مسئلے کی جانچ کے لیے جہاز کو احکامات بھیجتی۔
مشن کی سب سے بڑی رکاوٹ بجلی ہے۔ ناسا وضاحت کرتی ہے کہ وائجر جہاز ریڈیو آئسوٹوپ تھرمو الیکٹرک جنریٹرز سے بجلی حاصل کرتے ہیں جو وقت کے ساتھ کم توانائی پیدا کرتے ہیں، اس لیے انجینئروں کو جہاز کو چلتا رکھنے کے لیے آلات بند کرنے پڑے ہیں۔ اپنے مشن بلاگ میں ناسا نے بتایا کہ 17 اپریل کو اس نے وائجر 1 کا کم توانائی والے چارج شدہ ذرات کا تجربہ بند کرنے کا حکم بھیجا، اور اسے جوہری توانائی سے چلنے والے اس جہاز میں بجلی بچانے کا بہترین طریقہ قرار دیا، جو 5 ستمبر 1977 کو روانہ ہوا تھا اور جسے ناسا انسانیت کا پہلا بین النجمی متلاشی کہتی ہے۔
عوامی طور پر دستیاب خلاصے کچھ سوالات کھلے چھوڑتے ہیں۔ وہ یہ نہیں بتاتے کہ 48 گھنٹے کے رابطہ منقطع ہونے کی وجہ کیا تھی، اور نہ یہ کہ ستمبر کے بجلی بچت کے کام میں کون سے اقدامات شامل تھے، اس لیے ٹیم کی مزید معلومات آنے تک ان باتوں کو غیر مصدقہ سمجھا جائے۔ جو بات ثابت ہے وہ یہ ہے کہ جہاز بغیر مداخلت کے واپس آ گیا اور ٹیم بجلی بڑھانے کی کامیاب کوشش کی اطلاع دیتی ہے، جس کا ہر فائدہ جہاز کو بین النجمی خلا سے زیادہ دیر تک ڈیٹا بھیجتے رہنے میں مدد دیتا ہے۔



