شیل نے تیسری سہ ماہی میں 10.8 ارب ڈالر کا ایڈجسٹڈ منافع رپورٹ کیا جو ایک سال پہلے 5.43 ارب ڈالر تھا؛ مشرقِ وسطیٰ کے بحران نے تیل اور ریفائننگ مارجن بڑھائے۔ گرین پیس نے اس پر تنقید کی۔

شیل نے جمعرات کو جولائی تا ستمبر سہ ماہی کے لیے 10.8 ارب ڈالر کا ایڈجسٹڈ منافع بتایا، جو 2025 کی تیسری سہ ماہی کے 5.432 ارب ڈالر سے تقریباً دگنا ہے اور تجزیہ کاروں کی تقریباً 10.33 ارب ڈالر کی توقع سے زیادہ ہے۔ یہ اس سال کی دوسری سہ ماہی کے 9.836 ارب ڈالر سے بھی بڑھ کر ہے۔ کمپنی اگلے تین ماہ میں شیئر بائی بیک کے ذریعے شیئر ہولڈرز کو 5 ارب ڈالر لوٹائے گی، جو پچھلی سہ ماہی میں 3 ارب ڈالر تھے؛ دی گارڈین کی رپورٹ کے مطابق ابتدائی کاروبار میں اس کے شیئر تقریباً 3 فیصد بڑھے۔

اس اضافے کی وجہ مشرقِ وسطیٰ کا تنازع ہے جس نے عالمی توانائی نظام کو متاثر کیا ہے۔ شیل نے اسی ماہ کے آغاز میں سرمایہ کاروں کو بتایا تھا کہ سہ ماہی میں ریفائننگ مارجن 42 ڈالر فی بیرل متوقع ہے، جبکہ دوسری سہ ماہی میں یہ 24 ڈالر تھا اور یوکرین جنگ کے ابتدائی مہینوں کے تقریباً 28 ڈالر کے سابقہ ریکارڈ سے خاصا اوپر ہے؛ مشرقِ وسطیٰ اور روس میں ریفائنریوں کو نقصان سے پیٹرولیم مصنوعات کی قلت پیدا ہوئی۔ برینٹ خام تیل کی اوسط قیمت 94.90 ڈالر فی بیرل رہی جو ایک سال پہلے 69.10 ڈالر تھی، جبکہ یورپ میں گیس کی بینچ مارک قیمت اوسطاً تقریباً 64 یورو فی میگاواٹ گھنٹہ رہی جو دوسری سہ ماہی میں 48 یورو سے زیادہ تھی۔ شیل کی اپنی گیس پیداوار بری طرح متاثر ہوئی: خلیج میں ایک اہم گیس پروسیسنگ تنصیب کو نقصان سے پیداوار جنگ سے پہلے کے 9 لاکھ بیرل تیل کے مساوی یومیہ سے تقریباً ایک تہائی کم ہو گئی۔

چیف ایگزیکٹو وائل صوان نے نتائج کو اس سہ ماہی میں آپریشنل کارکردگی کا نتیجہ قرار دیا جس میں ان کے بقول توانائی نظام شدید خلل کا شکار رہا۔ ماحولیاتی کارکنوں نے سخت ردِعمل دیا: گرین پیس کے فلپ ایونز نے الزام لگایا کہ جب برادریاں شدید موسم اور بڑھتے اخراجات سہہ رہی ہیں تو تیل کمپنیوں کے سربراہان منافع کما رہے ہیں۔ تیل کے 117 ڈالر کے قریب پہنچنے پر اسی ماہ شیل کا شیئر 40 پاؤنڈ سے اوپر ریکارڈ سطح پر گیا اور اب یہ ایف ٹی ایس ای 100 کی سب سے بڑی کمپنی ہے۔ سی این بی سی نے بھی ریکارڈ ریفائننگ مارجن کی اطلاع دی۔ یہ اعداد کمپنی کے جاری کردہ ایڈجسٹڈ ہیں؛ یہ مارجن کب تک برقرار رہیں گے، اس کا انحصار مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال اور سپلائی کی مرمت پر ہوگا۔