ارامکو نے تیسری سہ ماہی میں 135.9 ارب ریال خالص منافع بتایا، جسے خام تیل کی بلند قیمتوں اور ریفائنری حصص کی فروخت نے سہارا دیا؛ ایڈجسٹڈ آمدن 9 فیصد بڑھی۔

سعودی تیل کی بڑی کمپنی ارامکو نے منگل کو بتایا کہ تیسری سہ ماہی میں اس کا خالص منافع 34.6 فیصد بڑھ کر 135.9 ارب ریال (تقریباً 32.3 ارب یورو) ہو گیا، جو ایک سال پہلے تقریباً 101 ارب ریال تھا۔ یورونیوز کے مطابق اس نتیجے کو مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے باعث بلند رہنے والی خام تیل کی قیمتوں اور ملائیشیا کی پیٹروناس کو ریفائننگ و پیٹروکیمیکل مشترکہ منصوبے PRefChem میں اپنا حصہ بیچنے سے حاصل 25.9 ارب ریال کے منافع سے سہارا ملا۔

یہ نمایاں اضافہ اسی ایک بار کے منافع سے بڑھا ہوا نظر آتا ہے۔ ارامکو کی ایڈجسٹڈ خالص آمدن تقریباً 117 ارب ریال (تقریباً 27.8 ارب یورو) رہی، جو ایک سال پہلے سے 9 فیصد زیادہ مگر دوسری سہ ماہی سے تقریباً 7 فیصد کم ہے، جب خالص منافع 44 فیصد بڑھ کر 122.6 ارب ریال ہوا تھا۔ یورونیوز نے رائٹرز کے حوالے سے بتایا کہ ایڈجسٹڈ رقم 12 تجزیہ کاروں کی 30.66 ارب ڈالر کی وسطی پیش گوئی سے بہتر رہی۔ عرب گلف اسٹیٹس انسٹی ٹیوٹ کے رابرٹ موگیلنیکی نے اے ایف پی سے کہا کہ نتائج ایک سال پہلے کے مقابلے میں بہتر ہیں جب تیل کی قیمتیں کہیں کم تھیں، مگر پچھلی سہ ماہی کے مقابلے میں کم حوصلہ افزا ہیں۔

یہ نتائج ایسے وقت آئے ہیں جب سعودی توانائی کا ڈھانچہ دباؤ میں ہے۔ یورونیوز کے مطابق جولائی میں دشمنی دوبارہ شروع ہونے کے بعد سے حوثی باقاعدگی سے سعودی ٹینکروں، پائپ لائنوں، ذخیرہ گاہوں اور ریفائنریوں کو نشانہ بناتے رہے ہیں، جبکہ آبنائے ہرمز اور باب المندب میں آمدورفت پیچیدہ ہو گئی ہے۔ چیف ایگزیکٹو امین ناصر نے کہا کہ اہم تنصیبات پر حملے عالمی توانائی سپلائی بحران کو بڑھاتے رہے۔ سعودی وزارتِ خزانہ اب 2026 کے لیے 245 ارب ریال (جی ڈی پی کا 4.9 فیصد) بجٹ خسارے اور معیشت میں 3.6 فیصد سکڑاؤ کی توقع رکھتی ہے، جبکہ آئی ایم ایف 3.3 فیصد سکڑاؤ دیکھ رہا ہے۔ پیر کو واشنگٹن اور تہران کے درمیان بات چیت کی بحالی کے آثار پر تیل 7 فیصد سے زیادہ گرا، اس لیے اگلی سہ ماہی کی آمدن کا منظرنامہ غیر یقینی ہے۔