ریڈٹ اور ڈیجیٹل فریڈم پروجیکٹ 3 تا 4 نومبر کو ہائی کورٹ میں دلیل دے رہے ہیں کہ 16 سال سے کم عمر کے لیے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر دنیا کی پہلی پابندی سیاسی ابلاغ پر ناجائز قدغن ہے؛ حکومت اسے بچوں کے تحفظ کا اقدام قرار دے کر اس کا دفاع کر رہی ہے۔

آسٹریلیا کی ہائی کورٹ نے منگل 3 نومبر کو دو روزہ سماعت شروع کی، جو 16 سال سے کم عمر کے لیے سوشل میڈیا پابندی کا پہلا بڑا قانونی امتحان ہے۔ دو درخواستیں اکٹھی سنی جا رہی ہیں: ایک ڈیجیٹل فریڈم پروجیکٹ کی، جو نیو ساؤتھ ویلز کے لبرٹیرین رکنِ اسمبلی جان رڈک کی قیادت میں کام کرنے والا وکالتی گروپ ہے، اور دوسری ریڈٹ کی جانب سے الگ دائر کی گئی ہے۔ یہ پابندی 10 دسمبر 2025 کو نافذ ہوئی اور فیس بک، انسٹاگرام، ٹک ٹاک، یوٹیوب، اسنیپ چیٹ، ایکس، ریڈٹ، کِک، تھریڈز اور ٹوِچ سمیت دس پلیٹ فارمز کو پابند کرتی ہے کہ وہ 16 سال سے کم عمر صارفین کو روکنے کے لیے معقول اقدامات کریں۔ وزیرِ اعظم انتھونی البانیزی کے مطابق ان سروسز پر پچاس لاکھ سے زائد اکاؤنٹس معطل کیے جا چکے ہیں۔

درخواست گزاروں کا مؤقف ہے کہ یہ قانون سیاسی ابلاغ کی مضمر آزادی پر بوجھ ڈالتا ہے، جسے آسٹریلوی عدالتیں آئین سے اخذ کرتی ہیں کیونکہ ملک میں اظہارِ رائے کی آزادی کا کوئی عمومی ضمانت شدہ حق موجود نہیں۔ ریڈٹ کا کہنا ہے کہ اس کا پلیٹ فارم خبروں اور سیاسی معلومات کا عام ذریعہ ہے اور نوعمر سیاست پر تبصرہ کرنے یا سیاسی جماعتوں کی نوجوان شاخوں کو فالو کرنے سے محروم ہو جاتے ہیں، اگرچہ وہ کہتا ہے کہ مقدمے کے دوران قانون کی پابندی کر رہا ہے۔ حکومت جواب میں کہتی ہے کہ یہ اقدام الگورتھم، لامتناہی اسکرولنگ، مسلسل نوٹیفکیشنز اور لائکس جیسی نقصان دہ خصوصیات کو نشانہ بناتا ہے، اور وہ ڈیجیٹل فریڈم پروجیکٹ کے مقدمہ دائر کرنے کے حق پر بھی اعتراض کر رہی ہے، کیونکہ ابتدا میں نامزد دونوں نوعمر درخواست گزار جولائی میں دستبردار ہو گئے تھے۔

قانونی ماہرین نتیجے پر منقسم ہیں۔ آئینی قانون کی پروفیسر این ٹومی نے عندیہ دیا ہے کہ اگر عدالت کو قانون کے مقصد اور اس کے عملی اثر میں تضاد نظر آئے تو ریڈٹ کامیاب ہو سکتا ہے، جبکہ موناش یونیورسٹی کے لیوک بیک کا خیال ہے کہ درخواستیں غالباً ناکام ہوں گی اور مقدمہ دائر کرنے کا حق گروپ کے لیے رکاوٹ ہوگا۔ عدالت کے باہر بھی نفاذ غیر یقینی ہے: ای سیفٹی کمشنر یہ تحقیق کر رہی ہیں کہ ٹک ٹاک، اسنیپ چیٹ، یوٹیوب، انسٹاگرام اور فیس بک قانون پر عمل کر رہے ہیں یا نہیں؛ سنگین یا بار بار خلاف ورزی پر تقریباً 9 کروڑ 90 لاکھ آسٹریلوی ڈالر تک جرمانہ ہو سکتا ہے، مگر اب تک کسی کمپنی کو جرمانہ نہیں ہوا۔ ناقدین کہتے ہیں کہ بہت سے نوعمروں نے عمر کی جانچ کو چکمہ دیا ہے اور حکومت نے پلیٹ فارم وار معطل اکاؤنٹس کے اعداد و شمار جاری نہیں کیے۔ سماعت کے فوراً بعد ہائی کورٹ کے فیصلے کی توقع نہیں۔